67

اُردو لطائف(2)

منحوس

باپ(بیٹے سے): سنا ہے کہ تم ہر ایک کو منحوس کہتے ہو؟
بیٹا: نہیں ابو جی۔ویسے یہ کس منحو س نے آپ کو بتایا ہے؟

کنجوس آدمی

ایک کنجوس آدمی کے دانت میں درد ہو گیا۔ وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے دانت کا معائنہ کر کے کہا:
”جناب! یہ دانت تو نکلوانا پڑے گا۔“
کنجوس آدمی: ”اس کی کتنی فیس ہو گی؟“
ڈاکٹر: ”دوسو روپے۔“
کنجوس آدمی نے پچاس روپے ڈاکٹر کے ہاتھ میں رکھے اور بولا:
”آپ میرا دانت ڈھیلا کر دیں۔ میں گھر جا کر خود اسے نکال لوں گا۔“

کرسی

ایک آدمی فرنیچر کی دکان میں بہت غصے سے داخل ہوا اور کہنے لگا:
”آپ کی دکان سے کرسی گھر لے جاتے ہی ٹوٹ گئی تھی۔“
دکاندار: ”ہمارے ہاں کی کرسیاں اتنی کمزور نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی بیٹھ گیا ہو۔“

مری جا رہی ہوں

ماں (بیٹی سے): بیٹی! مجھے جلدی سے پانی پلا دو، میں مری جا رہی ہوں۔
بیٹی: امی! میں نے بھی مری جانا ہے۔

شیخ صاحب

شیخ صاحب پورے تین سال بعد سعودی عرب سے گھر اطلاع دیے بغیر وطن لوٹے کہ بیوی بچوں کو سرپرائز دیں گے۔ ائیرپورٹ سے بیگم صاحبہ کو میسج کیا۔
”بیگم میں ائیر پورٹ پر پہنچ گیا ہوں، بس ایک گھنٹے بعد گھر پہنچ جاؤں گا۔“
بیگم صاحبہ نے جواب دیا: ”اچھا ٹھیک ہے۔ آتے ہوئے دہی اور ہری مرچیں لیتے آئیے گا۔“

ہاتھی کا دل

ایک دوست دوسرے سے: ”میرا دل بہت بڑا ہے۔“
دوسرا دوست:”کیوں تم نے ہاتھی کا دل فٹ کرایا ہے؟“

داڑھی کے بال

فقیر نے آدمی سے پیسے مانگے۔ آدمی نے کہا میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوں،جتنے بال میرے ہاتھ میں آئیں گے، تمھیں اتنے ہی روپے دوں گا۔ چناں چہ اس نے تین بار اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا مگر کوئی بال اس کے ہاتھ نہ آیا۔
وہ آدمی فقیر سے بولا: تمھاری قسمت میں کچھ بھی نہیں۔
فقیر: حضور اپنی داڑھی ذرا میرے ہاتھ میں دیں، پھر دیکھیں میری قسمت۔

مزار پر پھول

کنجوس(رکشے والے سے): عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جاؤ گے؟
رکشے والا(خوش ہوتے ہوئے): ہاں….ہاں….جاؤں گا۔
کنجوس: یہ پھول لیتے جاؤ، اُن کے مزار پر چڑھا دینا۔

بھینگا ملازم

آدمی دکان دار سے: آپ نے بھینگے آدمی کو دکان میں ملازم کیوں رکھا ہوا ہے؟
دکان دار: اس طرح چوری کا امکان کم ہوجاتا ہے۔
آدمی: وہ کس طرح؟
دکان دار: گاہک کو پتا نہیں چلتا کہ وہ کس طرف دیکھ رہا ہے۔

پانی پانی ہونا

استاد شاگرد سے: ”پانی پانی ہونا“ کا جملہ بناؤ۔
شاگرد: میں نے برف کا ٹکڑا دھوپ میں رکھا تو وہ پانی پانی ہو گیا۔

درخت اور بس

ایک دیہاتی پہلی بار بس میں سوار ہوا۔ بس جب منزل کے قریب پہنچی تو ایک درخت سے جا ٹکرائی۔ دیہاتی آگے بیٹھا ہوا تھا، اس لئے اسے زیادہ چوٹیں آئیں۔ وہ ہمت کر کے کھڑا ہوا اور ماتھے سے خون پونچھتے ہوئے ڈرائیور سے کہنے لگا:
”بھائی جی! جہاں درخت نہیں ہوتے، وہاں آپ بس کیسے روکتے ہیں؟“

عینک کی ضرورت

ایک شخص دکان میں داخل ہوتے ہوئے بولا: ”جناب مجھے عینک کی سخت ضرورت ہے۔“
دکان دار:”واقعی آپ کو عینک کی سخت ضرورت ہے، کیوں کہ یہ عینکوں کی نہیں،مٹھائی کی دکان ہے۔“

پریشانی والی بات

ڈاکٹر: آپ کی ٹانگ سوجی ہوئی ہے لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں۔
مریض جل کر: جی ڈاکٹر صاحب! اگر آپ کی ٹانگ سوجی ہوئی ہوتی تو میرے لیے بھی کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی۔

بچے کی مدد

بچہ: امی! دس روپے دیں میں نے ایک لڑکے کی مدد کرنی ہے۔
امی: کس کی مدد کرنی ہے؟
بچہ: وہ لڑکا گلی میں کھڑا آئیس کریم بیچ رہا ہے۔

باجا بجاؤں گا

روحیل (دادا ابو سے): مجھے باجا لادیں نا۔
دادا جان: نہیں تم باجا بجا کر سب کو تنگ کرو گے۔
روحیل: میں وعدہ کرتا ہوں، میں باجا اس وقت بجاؤں گا جب سب سو رہے ہوں گے۔

کیچڑ

استاد: جس ملک میں بارشیں بہت زیادہ ہوں، وہاں کیا چیز زیادہ پیدا ہوتی ہے؟
شاگرد: کیچڑ۔

بے بس

استاد: بے بس کسے کہتے ہیں؟
شاگرد: جس کے پاس بس نہ ہو۔

کپڑا اور سبزی

دکان دار ایک عورت کو کپڑے دکھا دکھا کر جب تھک گیا تو بولا:
”مجھے افسوس ہے کہ آپ کو کوئی کپڑا پسند نہیں آ یا۔“
عورت: کوئی بات نہیں بھائی! میں ویسے بھی سبزی لینے آئی تھی۔

حساب کتاب

استاد: دو میں دو نکالیں تو پیچھے کتنے بچیں گے؟
شاگرد: مجھے سوال سمجھ نہیں آیا۔
استاد: اچھا!یہ بتاؤ،تمہارے پاس دو روٹیاں ہوں،تم وہ دونوں کھا جاؤ تو پیچھے کیا بچے گا؟
شاگرد:”سالن۔“

جیب گرم

وکیل(ملزم سے): تم نے پولیس افسر کی جیب میں جلتی ہوئی سگریٹ کیوں ڈالی تھی؟
ملزم: انہوں نے خود کہا تھا کہ اگر کام کروانا ہے تو پہلے میری جیب گرم کرو۔

میرا سیب

امی: عمار! تم تینوں سیب کھا گئے، میں نے تمہیں ایک کھانے کو کہا تھا۔
عمار: امی جی آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ کون ساایک سیب کھانا ہے۔ اس لیے میں تینوں کھا گیا کہ ان میں سے کوئی تو میرا ہوگا۔

مچھر اور ہاتھی میں فرق

استاد: مچھر اور ہاتھی میں کیا فرق ہے؟
شاگرد: مچھر ہاتھی کو کاٹ سکتا ہے مگر ہاتھی مچھر کو نہیں کاٹ سکتا۔

پیپر میں نقل

تین دوست امتحان میں پیپر دینے کے بعدملے تو پہلا بولا: یار میں تو پیپر خالی چھوڑ آیا ہوں۔
دوسرا: میں بھی یار…..!
تیسرا: اوہ شِٹ یار، ٹیچر نے اب یہ سمجھنا ہے کہ ہم تینوں نے نقل کی ہے۔

سائیکل اور رکشا

ایک دوست دوسرے سے: جب میں پاس ہوا تھا تو میرے ابو نے مجھے نئی سائیکل لے کر دی تھی۔
دوسرا دوست: بس سائیکل ہی؟ جب میں فیل ہوا تھا نا….تب مجھے ابو نے رکشا لے کر دیا تھا۔

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو براۓ مہربانی اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔۔۔ جزاک اللہ خیراً

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں