71

پنکو گلاب

تحریر:سلمان یوسف سمیجہ

رانیہ کے باغیچے میں بہت سے اور قسم قسم کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ تمام پھول بے حد خوبصورت تھے۔ تمام پھولوں کے درمیان ایک گلاب کا پھول بھی موجود تھا جس کا نام پنکو گلاب تھا، وہ بہت پیارا تھا، تتلیاں اور لوگ بے اختیار اس کی جانب کھنچے چلے جاتے تھے۔ پنکو گلاب بہت خوش ہوتا۔
ایک دن وہ جھوٹ بولنے جیسی بُری عادت کا شکار ہوگیا۔ وہ اپنے دوست پھولوں اور تتلیوں سے بے تحاشا جھوٹ بولتا، وہ اپنی اس بُری عادت پر ذرا بھی نادم نہ ہوتا، بلکہ خوش ہوتا رہتا، اسے جھوٹ بولنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ جھوٹ بولنے میں جو مزہ آتا ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں آتا۔ اسے تتلیاں اور باقی پھول سمجھاتے کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دے، مگر وہ ان کی بات پر عمل نہیں کرتا تھا۔
ایک دن وہ سو کر اُٹھا تو اسے اپنے اندر سے بدبو اُٹھتی محسوس ہوئ۔ وہ گھبرا گیا۔ باقی پھول اس کی بدبو کی وجہ سے اس سے منہ موڑے بیٹھے تھے۔
”تم بدبو دار پھول ہو۔“ ٹینی چنبیلی بولی۔
”مجھے تمہاری یہ بدبو بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی۔“ شینو گیندا اس سے ذرا دور ہو کر بولا۔
”تم اپنی بدبو سے ماحول کو بہت گندا اور بدبودار بنا رہے ہو۔“ ٹنکی گلاب سخت لہجے میں بولا۔
”پھول تو خوشبودار ہوتے ہیں، ان کی خوشبو سے ماحول مہک اُٹھتا ہے۔ خوشبو کا اصل ٹھکانہ ہی پھول ہوتے ہیں۔ ایک تم انوکھے پھول ہو جس سے خوشبو کی بجائے بدبو آ رہی ہے اور ہم سب کو تم سے دور ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔“ ہنی چنبیلی نے کہا تو پنکو گلاب بہت شرمندہ رہ گیا۔ اسے اپنے آپ سے بھی شرم آ رہی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد تتلیاں آتی نظر آئیں، وہ ہر روز آتیں، ان پھولوں کے ساتھ کھیلتیں، ان سے باتیں کرتی تھیں۔
تتلیوں نے جب پنکو گلاب سے آتی بدبو سونگھی تو وہ اس سے دور ہوگئیں۔ تتلیاں باقی پھولوں کے ساتھ کھیلتی اور باتیں کرتی رہیں مگر پنکو گلاب کے آس پاس کوئی تتلی نہیں پھٹکی۔ پنکو اکیلا اور اُداس رہا۔ وہ شرمندہ سا یہ سوچتا رہا کہ اس سے بدبو کیوں آ رہی ہے؟ یہ بدبو کیسے جائے گی؟
”میرے اندر سے بدبو کیوں آ رہی ہے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے؟“جب تتلیاں چلی گئیں تو پنکو نے پریشان ہو کر کہا۔ سب خاموشی سے سوچنے لگے کہ اس کے اندر سے آنی والی بدبو کی اصل وجہ کیا ہوسکتی ہے؟
”مجھے لگتا ہے تمہاری جھوٹ بولنے والی عادت سے تم سے بدبو آتی ہے اور تمہاری خوشبو بھی اسی عادت کی وجہ سے چلی گئی۔ اپنی خوشبو واپس لانا چاہتے ہو اور بدبو بھگانا چاہتے ہو تو جھوٹ بولنے کی عادت چھوڑ دو، ورنہ یونہی بدبودار رہو گے۔“ ٹینی چنبیلی نے کہا تو سب نے اس کی تائید کی۔ پنکو نے اللہ سے معافی مانگ کر آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تو اس کی بدبو ختم ہوگئی، پنکو سمیت سارے پھول خوشی سے مزید کھل اُٹھے۔

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو براۓ مہربانی اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔۔۔ جزاک اللہ خیراً

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں