سوال:پارلیمانی اور صدارتی طرز حکومت میں فرق واضح کریں۔

جواب:پارلیمانی اور صدارتی طرز حکومت:

آج کل کے جمہوری دور میں تمام ملکوں میں یا تو پارلیمانی طرز حکومت ہے یا صدارتی حکومت۔ یہ دو اقسام ہیں قدرت میں حکومت کے مختلف شعبوں کے درمیان تعلق کی نوعیت کی بنا پر ہی بنائی گئی ہیں۔

پارلیمانی طرز حکومت:


پارلیمانی طرز حکومت میں حکومت کے تین شعبے ایک دوسرے کے کافی قریب ہوتے ہیں اور اختیارات کے استعمال کے وقت ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ اس طرز حکومت میں دو انتظامیہ ہوتے ہیں۔ ایک کو حقیقی انتظامیہ کہتے ہیں اور دوسرے کو برائے نام انتظامیہ۔ حقیقی انتظامیہ کابینہ ہوتی ہے جو اپنی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے سلسلہ میں قانونی طور پر براہ راست ملک کی مقننہ کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔ کابینہ کے سربراہ کو وزیراعظم کہتے ہیں جو حکومت کا بھی سربراہ ہوتا ہے۔ اسے وزارتیں یا پارلیمانی حکومت کے نام سے اس لیے موسوم کیا جاتا ہے کہ اس میں حقیقی انتظامیہ ملک کا سربراہ ہوتا ہے۔ برائے نام انتظامیہ یا تو ایک موروثی بادشاہ یا کوئی منتخب صدر ہو سکتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں وہ برائے نام اختیارات کا مالک ہوتا ہے۔ وہ ریاست کا محض رسمی سربراہ ہوتا ہے۔ قانونی طور پر اسے تمام اختیارات اور مراعات حاصل ہیں لیکن عملی طور پر ان اختیارات کو صرف اور صرف مجلس وزرا بروئے کار لاتی ہے، جسے اس نظام میں حقیقی انتظامیہ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

پارلیمانی طرز حکومت کی خصوصیات:


رسمی سربراہ مملکت:
پارلیمانی طرز حکومت نے ملک کے سربراہ کی حیثیت برائے نام ہوتی ہے جس سے قانونی طور پر تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر ان اختیارات کو مجلس وزرا کے خلاف نہیں چلا سکتا۔ سربراہ مملکت موروثی بادشاہت بھی ہوسکتا ہے جیسے انگلستان اور جاپان میں اور منتخب صدر بھی مسلم ہندوستان میں۔
حقیقی انتظامیہ:
کابینہ کے اراکین جو وزیر ہوتے ہیں حقیقی انتظامیہ کہلاتی ہے۔ یہ ملک کا انتظام چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
مشترکہ ذمہ داری:
کابینہ اراکین اپنی کارکردگی کے سلسلے میں مقننہ کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں اور اس وقت تک اپنے عہدوں پر فائز رہے ہیں جب تک انھیں مقننہ اعتماد حاصل ہو۔ اس میں تمام وزرا کی ذمہ داری مشترک ہوتی ہے چنانچہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہونے کی صورت میں تمام وزرا کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑتا ہے۔
وزیر اعظم بحیثیت قائد:
پارلیمانی طرز حکومت میں وزیر اعظم اکثریتی جماعت کا لیڈر ہوتا ہے اور حقیقی انتظامیہ کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے حکومت کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ کابینہ کی زندگی اور موت وزیراعظم کے رحم وکرم پر ہوتی ہے۔ وہ جب چاہے اپنی کابینہ کو توڑ سکتا ہے اور جب چاہے پوری اسمبلی کو بھی توڑ کرنے الیکشن کا اعلان کر سکتا ہے۔ وزیراعظم کسی بھی وزیر کو اس کے عہدے سے برطرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

پارلیمانی طرز حکومت کی خوبیاں:


ہم آہنگی:
پارلیمانی طرز حکومت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مقننہ اور انتظامیہ کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس تعلق کی بنا پر حکومت کے منصوبوں میں تسلسل قائم رہتا ہے۔
لچک دار نظام حکومت:
پارلیمانی طرز حکومت ہے دار ہوتی ہے کیونکہ اس نظام میں عوام ہنگامی صورت میں حکمران کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ جب تک حکمران جماعت کو مقننہ کا استعمال حاصل ہوتا ہے تب تک تو وہ اپنے عہدوں پر فائز رہ سکتے ہیں لیکن جب بھی وہ مقننہ سے اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑتا ہے۔
ذمہ دار طرز حکومت:
پارلیمانی طرز حکومت ایک ذمہ دار طرز حکومت ہے کیونکہ اس نظام میں حکمران طبقہ کا موثر محاسبہ کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی کارکردگی کے سلسلے میں پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، لہٰذا اس نظام میں ہر وزیر پر نکتہ چینی اور محاسبہ سے بچنے کے لیے اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح نبھانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
مستعدی:
چوں کہ پارلیمانی طرز حکومت میں مقننہ اور انتظامیہ کا آپس میں نزدیکی رابطہ ہوتا ہے اور دونوں کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے اس لیے دونوں کے کاموں میں مداخلت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جس سے ان کی کارکردگی میں مستعدی اور روانی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سب اقتدار جماعت حزب اختلاف کی نقطہ چینیوں سے ہر وقت مستعد رہتی ہے جسے انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
عوامی حاکمیت:
اس نظام حکومت میں اصولی طور پر عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کیوں کہ مقننہ کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے، اس لیے وہ اپنے اقدامات میں عوامی نمائندوں پر مشتمل مقننہ کو نظر انداز نہیں کر سکتی اور اگر ایسا کیا گیا تو مقننہ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے انتظامیہ کو مستعفی ہونے پر مجبور کر سکتی ہے۔
سیاسی تعلیم:
اس نظام میں ملک کے ہر معاملے میں اراکین پارلیمنٹ بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ جس سے سیاسی لیڈروں کی تربیت ہوتی ہے اور ابلاغ عامہ کے ذریعے ان بحث مباحثوں عوام تک پہنچاتے ہیں۔ اس سے عوام کا سیاسی شعور بیدار ہوتا ہے۔
پارلیمانی طرز حکومت کی خامیاں:
عدم استقامت:
پارلیمانی حکومت میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس نظام میں انتظامیہ مستحکم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس طرز حکومت میں اکثر مخلوط حکومت بنتی ہے اور مخلوط حکومت میں ہر سیاسی پارٹی کا اپنا ایک پروگرام ہوتا ہے اور ہر پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے پروگرام پر زیادہ عملدرآمد ہو جس وجہ سے حکومت غیر مستحکم ہوتی ہے۔
غیر مسلسل پالیسی:
پارلیمانی طرز حکومت میں جو کہ کابینہ کے عہدہ کی کوئی واضح معیاد مقرر نہیں اور کابینہ کسی وقت بھی تبدیل کی جا سکتی ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ نئی کابینہ سابقہ کابینہ کی پالیسی تبدیل کر دیتی ہے، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نظام کے کسی پالیسی میں تسلسل قائم نہیں رہتا۔
کابینہ کی مطلق العنانیت:
پارلیمانی نظام پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر کسی پارٹی کی حکومت بن جائے تو کابینہ مطلق العنان ہو جاتی ہے کیوں کہ حکومت کے تمام اختیارات کابینہ ہی کے پاس ہو جاتے ہیں۔ لہذا مقننہ میں حکمران پارٹی کی اکثریت کی بنا پر کابینہ ہر بات میں اپنی من مانی کرتی ہے۔
ہنگامی صورت حال میں غیر موثر:
ہنگامی صورتحال میں پارلیمانی نظام کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ وزیراعظم ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی جلد فیصلہ نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم کو پہلے کابینہ سے مشورہ کرنا ہوتا ہے اور پھر مقننہ کے اراکین کو اپنے اعتماد میں لینا پڑتا ہے۔ اگر کسی بھی جگہ اختلاف پیدا ہو جائے تو ہر صورت نکالنا مشکل ہو جاتی ہے۔
انتظامی امور سے بے توجہی:
اس نظام حکومت میں وزرا کو اپنا زیادہ تر وقت مقدمہ کی کارروائیوں میں صرف کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی انتظامی امور پر توجہ متاثر ہوتی ہے۔
نا اہل حکومت:
اس طرز حکومت پر ایک اعتراض یہ بھی دیا جاتا ہے کہ اس میں وہ ذرا زیادہ تر سیاسی ہوتے ہیں جو کسی وزارت اور اس کے متعلقہ مسائل سے کوئی علم نہیں رکھتے۔ وزرا کی نامزدگی متعلقہ محکمے کے تجربے اور اہلیت پر نہیں ہوتی بلکہ پارٹی سے ان کی وفاداری اور خدمات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔

صدارتی طرز حکومت:


صدارتی طرز حکومت کے تین شعبے یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے الگ الگ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے اثر اور دباؤ سے آزاد ہوتے ہیں۔ اس طرز حکومت میں انتظامیہ کے حقیقی اختیارات فرد واحد کو حاصل ہوتے ہیں۔ ملک اور انتظامیہ کے سربراہ کو صدر کہتے ہیں جو عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کا انتخاب ایک خاص مدت کے لیے کیا جاتا ہے جس کے خاتمے سے قبل اس کو اس کے عہدے سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ صدر اپنی مدد کے لیے مشیروں کا تقرر بھی کرتا ہے جو صدر کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ صدر اور اس کی کابینہ اپنے اختیارات کے سلسلے میں مقننہ کو جواب دہ نہیں ہوتے۔ اس کے اختیارات کی وضاحت آئین میں موجود ہوتی ہے۔

صدارتی طرز حکومت کی خصوصیات:


٭ریاست کا سربراہ عوام کا منتخب کردہ ہوتا ہے جس کو صدر کہا جاتا ہے۔
٭صدر کا انتخاب کسی ایک خاص مدت کے لیے ہوتا ہے اور ماسوائے مواخذہ کے اسے مدت سے قبل اسے اپنے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
٭صدر کے اختیارات کی وضاحت آئین میں درج ہوتی ہے۔
٭صدر اپنے اختیارات کے سلسلے میں مقننہ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔
٭صدر اپنے انتظامی امور کے لیے مشیروں کا تقرر کرتا ہے جو صرف صدر کو جواب دے ہوتے ہیں اور صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ مشیر کو
٭کسی بھی وقت اپنے عہدے سے برطرف کر سکتا ہے۔
٭اس نظام میں مقننہ اور انتظامیہ میں کوئی تعلق نہیں ہوتا اور دونوں کے اختیارات الگ الگ ہوتے ہیں۔

صدارتی طرز حکومت کی خوبیاں:


صدارتی طرز حکومت میں مندرجہ ذیل خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
استحکام:
یہ ایک مستحکم کرنے حکومت ہے کیونکہ صدر کا انتخاب ایک خاص مدت کے لیے ہوتا ہے اور اس مدت سے پہلے ماسوائے مواخذہ اسے اپنے عہدے سے کوئی علیحدہ نہیں کر سکتا۔
پالیسی میں تسلسل:
کیوں کہ انتظامیہ کی معیاد مقرر ہوتی ہے اس لیے ان کی پالیسی میں بھی تسلسل ہوتا ہے اور لمبی مدت کی پالیسی پر عملدرآمد کرا سکتی ہے۔
خود مختار انتظامیہ:
اس طرز حکومت میں چوں کہ انتظامیہ اور مقننہ الگ ہوتی ہے، اس لیے ان کی پالیسی میں بھی تسلسل ہوتا ہے اور لمبی مدت کی پالیسیوں پر عملدرآمد کراسکتی ہے۔
خود مختار انتظامیہ:
اس طرح سے حکومت میں چونکہ انتظامیہ اور مقننہ الگ ہوتی ہے، اس لیے وزرا اپنی پوری توجہ انتظامی امور پر دیتے ہیں۔
اہل حکومت:
صدارتی طرز حکومت میں مشیروں کا چناؤ ان کی اہلیت اور تجربے کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس طرز حکومت کو چلانے والے قابل اور اہل لوگ ہوتے ہیں۔
ہنگامی صورت حال میں موثر:
اس طرز حکومت میں ایک خوبی یہ پائی جاتی ہے کہ اس میں ہنگامی حالات کے مطابق جلد اور موثر فیصلے ہو سکتے ہیں۔ صدر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مقننہ اور اپنی کابینہ سے مشورے کا پابند نہیں ہوتا۔ اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتا ہے۔ اس طرح وہ ہنگامی حالات سے بغیر کسی تاخیر کے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔

صدارتی طرز حکومت کی خامیاں:


غیر لچک دار:
اس طرز حکومت میں ایک بڑی خامی یہ پائی جاتی ہے کہ یہ ایک بے لچک حکومت ہے۔ کیوں کے اگر صدر نااہل ثابت ہو تو اسے اپنے عہدے سے معیاد پوری ہونے سے پہلے ہٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
عدم موافقت:
اس طرز حکومت میں حکومت کے مختلف شعبوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا جو کہ نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ بعض معاملات میں ان دونوں میں ربط بھی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ رب نہ ہونے کی صورت میں حکومت کے بعض معاملات اختتام تک پہنچ نہیں پاتے۔
غیر ذمہ دار:
اس طرز حکومت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس میں صدر جو تمام اختیارات کا مالک ہوتا ہے کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے مقررہ وقت سے پہلے اپنے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment