person in white summer hat and brown rifle 60

خوابوں میں بندوق نہیں چلائی جاسکتی

تحریر:محمد جمیل اختر

ہم نے بھیڑیوں کو قصبے سے بھگانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی مگر ایک وقت آیا جب ہمیں محسوس ہونے لگا جیسے وہ انسانوں سے مقابلے پر اتر آئے ہیں، ہم جب انہیں کہتے کہ ”ہش بھاگو یہاں سے“، تو وہ ہمیں گھورنے لگ جاتے۔ ایسی خون خوار نگاہوں سے جن میں یہ پیغام جھلکتا دکھائی دیتا تھا کہ ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ، اب یہ قصبہ ہمارا ہے۔
وہ گروہ در گروہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتے اور مکینوں کے کھانے پینے کا سامان حاصل کرلیتے۔
گوشت کو تو ان سے چھپانا تقریباً ناممکن تھا۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ بکریوں، بھیڑوں اور بیلوں کی طرح اب بھیڑیوں کو بھی پالتو جانوروں کی طرح سدھایا جا سکتا ہے اور یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔
شروع شروع میں بالکل ایسا ہی ہوا، قصبے کا ایک طبقہ دیکھتے ہی دیکھتے امیر ہوگیا۔ وہ بھیڑیوں کو پال کر برآمد کرنے لگے۔ طاقتور طبقے کی زیرِ پرستی بھیڑیوں کی نسل پھلنے پھولنے لگی۔ وہ گلیوں میں یوں آزادانہ گھومتے جیسے اصل مکین وہی ہوں۔ پھر بھیڑیوں کی جانب سے قصبے کے نادار اور کمزور لوگوں کو کاٹنے اور بھنبھوڑنے کے واقعات اس تواتر سے ہونے لگے کہ یہ کوئی خبر ہی نہ رہی۔ آخر آدمی کتنے واقعات پر حیرت زدہ ہوسکتاہے؟
لوگ واقعہ دیکھتے، رُکتے اور افسوس میں سر ہلا کر آگے بڑھ جاتے۔
ایک مدت بعد لوگوں نے رُکنا اور افسوس میں سر ہلانا بھی چھوڑ دیا۔
مگر قصبے کے بااثر لوگ اب بھی اس سے محفوظ تھے۔ انہوں نے اپنے گھروں کے آگے لوہے کے جنگلے بنالیے اور کہا کہ اب ہمارا ان بھیڑیوں اور ان کے کاروبار سے کچھ لینا دینا نہیں۔
کمزور اور نادار لوگ جنگلوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر پوچھتے کہ اب ہم زندہ کیسے رہیں۔ یہ تو ہمیں ہر روز کاٹ کھارہے ہیں۔
”زہر دے دو انہیں۔ ہمیں کوئی پروا نہیں۔“
اگلے دن قصاب سے گوشت لے کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا۔ پھر اس پر زہر لگا کر گلیوں میں بکھیر دیا گیا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ بھیڑیوں نے گوشت کے پارچوں کو چھوا تک نہیں۔
قصبے کے بااختیار لوگوں نے میٹنگ کی اور کہا:
”بھیڑیے اب نیلے تھوتھے کی بُو پہچانتے ہیں کہ ایسا ہم نے ہی انہیں سکھایا تھا۔ اس کے سوا کیا حل ہو گا کہ ہم اپنی اپنی بندوقیں سنبھالیں اور انہیں ختم کر دیں۔ ویسے بھی اب یہ کوئی منافع بخش کاروبار بھی نہیں رہا۔“
پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اپنے ہاتھ سے اپنے پالے ہوئے بھیڑیوں کو مار دیا اور چین کی نیند سونے لگے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ہم جیسے قصبے کے کمزور عوام اب بھی پریشان ہیں کہ بھیڑیے ہمارے خوابوں میں گھس گئے ہیں۔
ہم نیند میں انہیں ”ہش بھاگو یہاں سے“ کہتے رہتے ہیں مگر وہ ہمیں خونخوار نظروں سے گھورتے رہتے ہیں۔ ہماری بے بسی دیکھیے کہ خوابوں میں بندوق بھی نہیں چلائی جاسکتی۔

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو براۓ مہربانی اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔۔۔ جزاک اللہ خیراً

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں