80

سوال: پنجابی شاعری کے دوسرے دور کے اہم شعراء کون سے ہیں، تفصیلی تعارف کروائیں۔

جواب: پنجابی شاعری کا دوسرا دور:

پنجابی نظم کا دوسرا دور سولہویں صدی سے شروع ہوکر اٹھارہویں صدی عیسوی تک کے عرصے پر محیط ہے اس دور کے اہم شعرا درج ذیل ہیں۔

شاہ حسین:


شاہ حسین بابا فرید کے بعد پنجابی شاعری کا سراغ ہمیں مغلیہ عہد میں ملتا ہے اور وہ بھی جلال الدین اکبر کے دور میں۔ اگرچہ یہاں بھی یہی بات زیادہ کریانہ قیاس ہے کہ پنجاب کے رہنے والے بہت سے اصحاب فکر و احساس سے مادری زبان کو صلح اظہار بنایا ہوگا لیکن ان میں سے صرف مادھو لال حسین کا کلام ہم تک پہنچ سکا۔ مادھو لال حسین جن کو عام طور پر شاحسین کہا جاتاہے لاہور میں پیدا ہوئے۔ جس طرح بابا فرید کے اشعار کو شلوک کہا جاتا ہے اسی طرح شاہ حسین کے کلام کو کافیاں کہتے ہیں۔ یہ اصطلاحیں بھی اسی دور میں کلام مربوط کے لیے مستعمل ہو ہوگی گیا ہے کہ اس کی اصل کا وی ہو جو کاؤ اور کوئی کے روپ میں میں شعر اور شاعر کا مفہوم دیتے ہوئے آج بھی موجود ہے۔

سلطان باہو:


پنجابی کے نامور شاعر حضرت سلطان باہو فکرو شعر میں بالکل مختلف رنگ کے مالک تھے جن کے سی حرفی نما ابیات ان کی فارسی تخلیقات کو ماند کر گئے۔ سلطان باھو صاحب حال واردات صوفی تھے اور ہر چند اعوان قوم کے فرد تھے لیکن اندرونی راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست۔ ان کا سرمایہ شہرت و منزلت ان کا اعوان ہونا نہیں درویش ہونا ہے آپ نے اس دور کے مسلمان صوفیاء کی طرف چلے ترقی کی اور شرع کا دامن بھی عرفاں کے ساتھ ساتھ تھامے رکھا۔

سلطان الفقر:


فقر میں سخی سلطان باہو کا مقام و مرتبہ ہر کسی کے وہم و گمان سے بھی بالا تر ہے۔ آپ سلطان الفقر پنجم کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ کو وہ خاص روحانی قوت حاصل ہے کہ آپ قبر میں بھی زندوں کی طرح تصرف فرماتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں جب سے لطفِ ازلی کے باعث حقیقتِ حق کی عین نوازش سے سربلندی حاصل ہوئی ہے اور حضور فائض النور نبی اکرم ﷺسے تمام خلقت، کیا مسلم، کیا کافر، کیا بانصیب کیا بے نصیب، کیا زندہ کیا مردہ سب کو ہدایت کا حکم ملا ہے، آپ ﷺنے اپنی زبانِ گوہر فشاں سے مجھے مصطفیٰ ثانی اور مجتبیٰ آخرزمانی فرمایا ہے۔ سخی سلطان باہو نے ہر لمحہ استغراقِ حق میں مستغرق رہنے کی وجہ سے ظاہری علم حاصل نہیں کیا لیکن پھر بھی آپ نے طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے لیے ایک سو چالیس کتب تصنیف فرمائیں۔
آپ کی تمام کتب علمِ لدّنی کا شاہکار ہیں۔ ان کتب کا سب سے بڑا کرامت یہ ہے کہ انہیں ادب اور اعتقاد سے پڑھنے والے کی مرشدِ کامل اکمل تک راہنمائی ہو جاتی ہے۔ اپنی تمام کتب میں آپ نے معرفتِ الٰہی کی منازل طے کرنے کے لیے راہِ فقر اختیار کرنے اور مرشدِ کامل کی زیرِ نگرانی ذکر و تصور اسمِ ذات کی تلقین کی ہے۔ آپ ذکر و تصورِ اسمِ ذات کو قلب (باطن) کی کلید فرماتے ہیں جس کے ذریعے تزکیہ نفس اور تجلی روح کے بعد طالبِ مولیٰ کو دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی ﷺ کی حضوری کے اعلیٰ ترین مقامات عطا ہوتے ہیں۔ سخی سلطان باہو فرماتے ہیں کہ میں تیس سال ایسے طالبِ حق کی تلاش میں رہا جسے میں وہاں تک پہنچا سکتا، جہاں میں ہوں لیکن مجھے ایسا طالبِ حق نہ مل سکا۔ چنانچہ آپ امانتِ فقر کسی کے بھی حوالے کیے بغیر وصال فرما گئے۔

حافظ برخوردار:


حافظ برخوردار 1030 ھ کے قریب تخت ہزارے کے قریب ایک مسلمان گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ لاہور کے علاقے پریمانہ چیمہ چٹھہ کا رہائشی تھا۔ حافظ کو پیلو کے بعد سب سے آگے کہانی سنانے والا سمجھا جاتا ہے۔ وہ اورنگ زیب کے ہم عصر تھے۔ اس نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی۔ جب وہ جوان تھا لاہور آیا۔ یہاں ہوا بھی نہیں چلتی تھی۔ یہاں سے وہ سیالکوٹ گیا۔ وہ اپنی زندگی کے آخر تک وہیں رہے۔ ان کی قبر سیالکوٹ سے چار میل دور گاؤں چٹی شیخ میں ہے۔ میاں محمد بخش لکھتے ہیں۔ (چٹی کا مطلب سیالکوٹ سے سفید شیخ ہے۔) برخوردار قرآن مجید کے حافظ تھے، اسی وجہ سے وہ حافظ برخوردار کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ ایک فارسی عالم تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی شاعری پڑھانے اور پڑھنے میں گزاری۔ پڑھانے کے علاوہ انہوں نے مذہبی موضوعات پر لیکچر دیا۔ اپنے فارغ وقت میں، وہ سچی محبت کی کہانیاں لکھنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ حافظ برخوردار کے نام سے دیگر کاموں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، بشمول مذہبی اسلامی بارہماں۔
تین کہانیاں:
1۔سسی پنو
2۔مرزا صاحباں
3۔یوسف زلیخا
حافظ کے نام سے تین کہانیاں (مرزا صاحباں، سسی پنو اور یوسف زلیخا) کے علاوہ کچھ مذہبی کام مشہور ہیں۔ جوانی میں حافظ نے مرزا صاحب اور سسی پنو کی کہانیاں لکھیں۔ مذہبی کام کم عمری میں لکھے گئے۔ مذہبی کاموں میں ’فرازی ہندی‘ اور ’انتائی حافظ برخوردار‘ بہت اہم ہیں۔ ’رسالہ پنجابی دربار‘ میں قاضی فضل حق کے اپنے ایک مضمون میں نظموں کا مجموعہ تھا۔ یہ مختصر اور طویل پنجابی نظموں کا مجموعہ تھا جو عربی فارسی کے بڑے اثر سے لکھی گئی تھی۔ یہ تمام کام 1080 اور 1090 ھ کے درمیان لکھے گئے۔ حافظ برخوردار کے نام تین حروف لکھنے کا اشارہ ایک ہاتھ سے لکھا ہوا (نمبر 185) محکمہ زبان، پنجاب کے ذریعہ محفوظ ہے۔ سی حرفی کے علاوہ حافظ کا کام ’برہمہ‘ ہے۔ جس میں ہیروئین کی علیحدگی بیان کی گئی ہے۔ اسے پیارا سنگھ پدم نے اپریل 1957 میں محکمہ آثار قدیمہ کے ایک نسخے کی کاپی میں شائع کیا تھا۔ پنجابی شاعری کی دنیا میں حافظ برخوردار کی شہرت ان کی تین مختصر کہانیوں کی وجہ سے ہے اور وہ اپنے کام کی خصوصیت کی بنیاد پر کہانی سنانے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔

سسی پنو:


یہ پہلا موقع ہے کہ اس کہانی نے حافظ کے قلم سے پنجابی میں جڑ پکڑی ہے۔ ہاشم کا انداز بہرحال مختلف اور گہرا ہے۔ لیکن حافظ برخوردار کو سادہ اور معیاری زبان میں لوک اقوال لکھنے کے قابل ہونے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ ان کے اس طرح کے بیانات بعض اوقات انہیں لوک سٹائل کے لحاظ سے ماسٹر شاعر ثابت کرتے ہیں۔ حافظ برخوردار کی سسی پنو کی کہانی کچھ یوں ہے:
آدم جام کے گھر میں کوئی اولاد نہیں تھی۔ لیکن جب، خدا کے فضل سے، اس کی بیوی حاملہ ہو گئی، وہ بہت خوش تھا، لیکن نجومیوں نے کہا کہ سسی جوانی میں ہی بدقسمت ہو گی۔ سسی کو ایک ڈبے میں ڈال کر دریا میں پھینک دیا گیا جیسے ہی وہ پیدا ہوئی۔ وہ صندوق ایک لانڈریس نے پایا تھا۔ سسی پنو کے ساتھ ملتی ہے۔ نجومیوں کا کہنا ہے کہ سسسی کے دل میں پنو کے لیے محبت بیدار ہوتی ہے۔ سسی کو پنو سے محبت ہے۔

مرزا صاحباں:


جس طرح ہیررانجھا کی کہانی پنجاب میں نمبر ون پر مشہور ہے، اسی طرح مرزا صاحباں کی کہانی دوسرے نمبر پر ہے۔ مرزا اپنے دادا کے ساتھ رہتا تھا اور گھر میں صاحباں کے ساتھ تعلیم حاصل کرتا تھا۔ صاحباں مرزا کے چچا کی بیٹی تھی۔ دونوں کو پیار ہو گیا۔ مرزا صاحباں کو گھر سے لے جایا گیا۔ دیہات میں سے کچھ پانچ کنوؤں پر اترے تاکہ جنڈ کے نیچے آرام کریں۔ مرزا سو گیا اور موت کا چہرہ دیکھنا پڑا۔ صاحباں بھی چھرا گھونپ کر مر جاتی ہے۔ مرزا کی لاش کو ایک طرف اور دوسری طرف صاحباں کی لاش کو اذیت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ کہانی مرزا صاحباں پیلو کے کام سے مختلف ہے۔ حافظ برخوردار نے اپنی کہانی ’مرزا صاحباں‘ میں پیلو کی کہانی ’مرزا صاحباں‘ کی بہت تعریف کی ہے اور وہ اس سے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ خسارے میں اس قدر معمولی اضافے کے ساتھ انہوں نے اپنی کہانی میں کئی سطریں استعمال کی ہیں۔ پیلو کی کہانی میں آقاؤں کی موت کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ لیکن حافظ نے اپنی کہانی میں صاحباں کی موت کا اشارہ دیا ہے جس نے ان کی کہانی میں کہانی کو پیلو کی کہانی سے مختلف بنا دیا ہے۔

یوسف زلیخا:


یہ کہانی سب سے خوب صورت ہے۔ یوسف کی کہانی شاعر نے 1090 ھ میں لکھی۔ کہانی لکھی گئی اور نواب جا افر خان کو پیش کی گئی۔ جوزف بہت خوبصورت تھا۔مصری عورتیں اسے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ مصری خواتین اپنی خوبصورتی، غرور اور تکبر پر فخر کرتی تھیں۔ جوزف یوسف کے قہر سے بہت پریشان تھا۔ سماج نے اسے پاگل کہنا شروع کر دیا اور اس کے والدین نے زلیخاکے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں۔ جلیخا یوسف سے ملتی ہے جب وہ بوڑھی ہو جاتی ہے۔ جوزف نے اسے جوان کیا۔ یوسف اور زلیخا کی شادی اس کہانی کو حافظ برخوردار نے خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

حافظ کا فن:


حافظ برخوردار نے یوسف زلیخا اور سسی پنوں کو بیت میں لکھا۔ حافظ پنجابی اور کافی میں روانی رکھتا تھا۔ پنجابی میں حافظ برخوردار کے وقت تک فارسی عربی الفاظ بہت عام تھے۔ ہندی زبان میں ملاوٹ کچھ جگہوں پر بھی دیکھی جاتی ہے [7]۔ حافظ لفظ پیڈو استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ اس نے ہندی الفاظ کا مطالعہ کیا۔

دمودر:


دمودر داس نام، دمودر تخلص۔ مذہباً ہندو اور ذات کا اروڑ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لودھی خاندان کے زمانے میں پیدا ہوا اور اکبرکے دور میں مرا۔ پہلا پنجابی شاعر ہے جس نے ہیر رانجھا کا قصہ نظم کیا۔ دومدر جھنگ سیال کا ایک دکان دار تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس قصے کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس کی زبان مغربی پنجاب کے علاقہ جھنگ اور ملتان کی زبان کا ملغوبہ ہے۔
دامودر داس اروڑا (شاہ مکھی: دمودر داس اروڑا) ایک مشہور پنجابی کہانی کار تھا جس نے سب سے پہلے پنجاب ہیر رانجھا کی مشہور لوک کہانی کو شاعرانہ شکل میں بیان کیا۔ اس کام کی شکل کسا ہے اور اس کا نام ’ہیر دامودر‘ ہے۔
دمودر کی حیات:
دمودر کی زندگی کے بارے میں تھوڑی سی معلومات اس کے صرف کام سے آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ لودھی خاندان کے زمانے میں پیدا ہوا اور اکبر کے زمانے میں فوت ہوا۔ ان کا گاؤں تحصیل چنیوٹ (ضلع جھنگ، پاکستان) میں بلہارا تھا۔ وہ گلاٹی ذات کا اروڑہ تھا۔
دامودر کی کہانی کی زبان جھندی، ملتانی اور پوٹھوہاری رنگوں والی لہندی پنجابی ہے۔ کہانی میں، وہ دعوی کرتا ہے کہ اس نے ہیر رانجھا کی کہانی پہلے ہاتھ سے دیکھی۔ یہ سچ نہیں لگتا بلکہ اس کی کہانی کو موثر بنانے کا ایک طریقہ ہے۔
ادبی تحفہ:
ہیر دامودر ایک لمبی داستانی نظم کا ایک نمونہ ہے جو جھنگی میں لکھی گئی ہے، جو لہندی کی ایک بولی ہے۔ دمودر نے کہانی کا اختتام خوش اسلوبی سے کیا، اور اس وقت کی مشہور مقامی فارسی کا اثر واضح ہے۔ ان کا ذخیرہ الفاظ بھی گورمٹ اور صوفی الفاظ سے متاثر ہے۔ دمودر کی کہانی میں اکبر کے دور حکومت کو یہاں اور وہاں بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کہانی کی تشکیل اکبر کے زمانے میں دکھائی دیتی ہے۔
……٭……

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو براۓ مہربانی اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔۔۔ جزاک اللہ خیراً

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں