boy holding stock pot 53

اہل ظرف…ضیاء اللہ محسن

صاف ستھرا لباس پہنے میں صبح سے سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔ ادھر اُدھر پیدل چلنے کے بعد میں تھوڑی دیر کے لیے دم لینے کو ٹھہر جاتا۔ یہ شہر میرے لیے اجنبی تھا۔ میں اس بڑے شہر میں کسی کام کی تلاش میں چلا آیا تھا۔ ہاتھ میں اسناد پکڑے میں نے کتنے ہی محکموں میں اپنے کاغذات جمع کروا دیے تھے اور یہ کام نہ جانے کتنے عرصے سے جاری تھا، مگر ہنوز دلی دوراست۔ ہر طرف سے ایک ہی جواب سننے کو ملتا کہ ابھی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔
سارا دن پیدل اور گاڑیوں میں سفر کرکے میرا برا حال تھا۔ اب رات کا سایہ میری نا امیدی میں اضافہ کرنے لگا۔ بھوک کی شدت سے میرا برا حال تھا، چہرہ جیسے مرجھائے چلا جارہا ہو۔ خالی پیٹ مزید آوارگی میرے لیے ناممکن تھی۔ اسی دوران میں، میں نے جیب میں رکھے مڑے تڑے چند نوٹوں کو ٹٹولا اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر بازار کی بھیڑ سے ہوتا ہوا ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں داخل ہوگیا۔
”جی صاحب! کیا کھائیں گے آپ؟“ بارہ، تیرہ سال کے ایک لڑکے نے فوراً میز کے قریب پہنچ کر احترام سے پوچھا۔
”ایک شامی، دو نان۔“ میں نے اپنی حیثیت کے مطابق کھانے کا آرڈر دیا تو لڑکا فوراً پلٹ گیا۔
”ارے چھوٹے! ادھر آنا ذرا۔“ اسی دوران میں ساتھ والی میز سے ایک آواز آئی۔
”چھوٹے! ذرا سالن دینا۔“ وہ دوسری سمت سے آنے والی کی جانب لپکا۔
”چھوٹو میاں! دور روٹیاں پکڑانا……“اس مرتبہ پیچھے سے آواز آئی تھی۔
”چھوٹے! پانی دینا۔“ مختلف میزوں سے بار بار اس ”چھوٹے“ کو بلایا جارہا تھا۔ بے چارہ ”چھوٹو“ بھاگ دوڑ کر سب کے کام کیے جارہا تھا۔ ادھر اگر ہوٹل مالک کی آواز گونجتی تو وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ کاؤنٹر کی جانب لپکتا۔ اس کے ہاتھ بڑی تیزی سے اپنا کام نمٹا رہے تھے۔ کچھ لمحوں بعد وہ ایک کپڑا لیے میری طرف آیا۔ پھر بڑے سلیقے سے وہ میز صاف کرکے اس پر برتن سجانے لگا۔
”چھوٹے! نام کیا ہے تمہارا؟“ میرے ساتھ والی میز پر بیٹھے ایک لحیم شحیم آدمی نے اس کا نام پوچھا۔
”جی! میں وقار ہوں۔“ اس نے میز پر برتن لگاتے ہوئے اپنا نام بتایا۔ وہ مستعدی کے ساتھ کام میں جُتا ہوا تھا۔ ننھی جان اور ایک ساتھ اتنے سارے کام، لیکن اس کے باوجود وقار کے ماتھے پر کوئی شکن نمودار نہ ہوئی۔ دم لینے کو اسے ذرا سی بھی فرصت نہ تھی۔
”کتنے پیسے ملتے ہیں تمہیں روزانہ؟“ اس آدمی نے دوبارہ سوال کیا۔
”جی، پچاس روپے۔“ اس نے مختصر جواب دیا اور دوبارہ وہ اپنے کام میں مگن ہوگیا، ادھر بھوک کی شدت سے میری ہمت جواب دے رہی تھی۔
”ارے چھوٹو! کب سے انتظار کررہا ہوں۔ جلدی کھانا لا۔“ انتظار کی بھٹی میں تپتے ہوئے میں اُس پر برس پڑا۔
”اوہ…… جج…… جی ابھی لے کر آیا صاحب! بس دو منٹ میں ……“ وقار شاید میرے رعب میں آگیا تھا۔ اب وہ بھاگ کر کاؤنٹر سے کھانا لینے جارہا تھا۔ ایسے میں میری دوسری سمت موجود میز پر بیٹھے ایک خوش لباس آدمی نے مجھے مسکرا کر دیکھا، پھر بڑے پیار سے اپنے لب کھول دیے۔
”ارے کوئی بات نہیں بھائی صاحب! غصہ کیوں کرتے ہیں آپ! بے چارہ بھاگ دوڑ کر تو رہا ہے۔“ اس باریش آدمی کی بات پر میں برا سامنہ بنا کررہ گیا۔
”ہونہہ…… لوگ بھی خواہ مخواہ دوسرے کے ہمدرد بن جاتے ہیں۔“ میں نے اپنا سر جھٹک دیا۔
مگر وہ آدمی شاید کھانا تناول کرچکا تھا، چناں چہ اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ میرے قریب سے گزرا تو ایک پیار بھری تھپکی دے کر مجھے تحمل کا درس دینے لگا۔ میں سار ے دن کا تھکا ہارا، ایک دم بھڑک اٹھا:
”بس، رہنے دیجیے جناب! یہ ہوٹلوں کے ”چھوٹے“ بڑے چالاک ہوتے ہیں۔ جہاں سے زیادہ ٹپ ملنے کی اُمید ہو، یہ اسی کے آگے پیچھے پھرتے ہیں اور دوسروں کو انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ ہونہہ……“ میں نے ذرا تیکھے انداز میں چھوٹوں کی ”مدح سرائی“ کی تو وہ آدمی بھی مسکرا کر رہ گیا۔
”ہاہاہا! ایسی بات نہیں ہے، میرے بھائی! یہ بچہ بہت ذہین ہے، اسکول سے سیدھا اسی ہوٹل پر چلا آتا ہے، ماں باپ تو بے چارے غریب ہیں، مگر شاید اس بچے کی تربیت، ماشاء اللہ بہت اچھے انداز میں کی ہے انہوں نے۔ ہم کافی مہینوں سے اس ہوٹل میں کھانا کھارہے ہیں، آپ دیکھتے جائیے! وہ سب کو برابر خدمات فراہم کرے گا۔ وہ کسی سے تلخ لہجے میں بات نہیں کررہا، ویسے بھی اس ہوٹل کے کرخت مالک نے ٹپ پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اگر کوئی دے بھی، تو مالک فوری طور پر اس سے ضبط کرلیتا ہے۔“ باریش آدمی نے بڑے پیار کے ساتھ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میٹھے لہجے میں بات کہی تو میں کچھ سوچتے ہوئے گلا س میں پانی ڈالنے لگا۔ ایسے میں وقار عرف چھوٹا میرے سامنے میز پر رائتہ، شامی کباب، نان اور سلاد دو غیرہ رکھ چکا تھا۔
”جناب! کہتے تو آپ بھی ٹھیک ہوں گے، مگر سنا ہے اور اکثر دیکھا بھی ہے کہ ایسے ”چھوٹے“ بڑے شاطر ہوتے ہیں، اللہ بچائے ان سے۔“
میں نے چھوٹو کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو بے چارہ ایک گہری سانس لے کر رہ گیا۔ اب میں جلدی جلدی اپنی بھوک منانے لگا۔
چھوٹا اپنے باقی ماندہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ ہوٹل کے اس دالان نما کمرے میں دونوں جانب لگی میزوں کے درمیان سے گزرنے کا ایک ہی راستہ تھا۔ وہ بھاگ دوڑ کر گاہکوں کو اپنی آمد کا احساس دلا رہا تھا۔ ادھر پچھلی میز سے کسی نے ”پانی“ کی آواز لگائی تو وہ دوڑتا ہوا جگ لے کر میرے قریب سے گزرا، اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور جگ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر دورجا گرا۔ جگ کا پانی اردگرد بیٹھے لوگوں پر آن رہا۔ ادھر میرے کپڑے بھی کچھ حد تک پانی کے چھینٹوں سے تر ہوچکے تھے۔ میں نے غضب ناک ہوکر اسے گھورا تو زمین پر بیٹھے بیٹھے چھوٹے نے رحم طلب اور معصوم نگاہوں سے مجھے دیکھا، مگر شدید غصے کے عالم میں مجھ سے رہا نہ گیا۔
”اندھا ہے کیا؟ نظر نہیں آتا تجھے؟“ میں نے غصے میں پھنکارتے ہوئے اسے بالوں سے جکڑ لیا۔
”مم…… معذرت صاحب جی!“ وہ صرف اتنا کہہ سکا۔ شاید اس کے بالوں پر میرے ہاتھوں کی گرفت زیادہ مضبوط تھی۔ تبھی اس کے رخساروں پر دو آنسو تیرتے ہوئے زمین پر ٹپک گئے۔ پھر نہ جانے دل میں کیا آئی، میں نے غصے کی حالت میں ایک زور دار جھٹکا دے کر اس کے بال چھوڑ دیے۔ میری ”رحم دلی“ پر اس کا چہرہ قدرے شاد ہوگیا اور وہ جلدی سے دوبارہ پانی لینے چلا گیا۔
میں دوبارہ سے اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ سارا دن فارغ پھرنے کے بعد مایوسی کے جھکڑ میرے دماغ میں چل رہے تھے۔ مجھے اب واپس اپنے شہر جانا تھا۔ کھانے سے فارغ ہوکر رومال سے میں نے اپنے ہاتھ صاف کیے اور جیب سے بٹوہ نکالنے کے لیے ہاتھ اندر ڈالا، لیکن یہ کیا……! میرا اُوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ پاؤں تلے سے جیسے زمین سرک گئی ہو۔ مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا، کیوں کہ میرا ہاتھ جیب کے آرپار ہوگیا تھا۔ کٹی پھٹی ”جیب“ میرا منہ چڑا رہی تھی، ایک لمحے کے لیے میری سمجھ میں کچھ نہ آیا، پھر رفتہ رفتہ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ یہی تو پیسے تھے۔ ان کے علاوہ ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی میرے پاس۔ شاید بازار کے رش میں کسی ظالم جیب کترے نے مجھ غریب پر ہاتھ صاف کیا تھا۔
”اوہ خدایا!“ دونوں ہاتھوں سے میں نے اپنا سر تھام لیا، اب ہوٹل میں بیٹھا میں اپنی قسمت کو کوس رہا تھا۔ خیالات کا ایک طومار میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ پردیس میں رات کے وہ لمحات میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھے۔ ہوٹل کی میزیں ایک ایک کرکے خالی ہورہی تھیں۔ ویسے بھی یہ کوئی گنجان آباد علاقہ نہ تھا۔ رات کے نو بجنے والے تھے۔ اب ہوٹل کے بڑے دالان نما کمرے میں صرف میں ہی باقی رہ گیا تھا۔
کچھ دیر انتظار کے بعد چھوٹا اب میری جانب آرہا تھا، شرمندگی اور بے عزتی کے خوف سے میرا جسم کانپنے لگا۔
”صاحب جی!“ وہ بڑے پیار سے بولا۔ ”ہوٹل بند ہورہا ہے۔ براہ مہربانی بل ادا کر دیجیے۔“ اس نے قریب آتے ہی آہستگی سے کہا۔
غم کی شدت سے میرا دماغ پھٹنے کو تھا۔ میری پریشانی عروج پر تھی، حواس باختگی کے عالم میں اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے میں گہری سوچ میں مگن تھا۔ اتنے میں ہوٹل کے مالک کی آواز گونجی۔
”ارے چھوٹے! جلدی سے باہر والا سامان سمیٹ لے، پھر صاحب سے بل وصول کرکے کھانا لے کر تم بھی چلے جانا اپنے گھر۔“ رعب دار آواز میں اس نے چھوٹے پر اپنا حکم صادر کیا اور ساتھ ہی آج کی دیہاڑی اس کے ہاتھ پر دھر دی۔ مالک کا حکم سنتے ہی وہ باہر سے پانی کا کولر اور میز اُٹھا کر اندر رکھنے لگا اور پھر واپس میری طرف پلٹا۔
”صاحب جی!“ اس نے استفہامیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ کر آواز لگائی۔
میں دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ رہا تھا، اس مشکل گھڑی میں نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، میری سوچ کا دھارا بے لگام ہورہا تھا کہ شاید ہوٹل کا مالک مجھے برا بھلا کہے، جھوٹا سمجھے، میری خوب خبر لے یا میرے خلاف کسی بھی حد تک چلا جائے، معلوم نہیں کہ اب کیا ہونے والا تھا، میں بدستور ہاتھوں میں سر دیے بیٹھا تھا۔ میری آنکھوں سے رواں موتیوں کی لڑکی کو چھوٹے نے شاید محسوس کرلیا تھا، وہ بل لینے کے لیے میرے پاس کھڑا تھا، پھر ندامت بھرے لہجے کے ساتھ میں نے کہا۔
”بب…… بیٹا…… میری…… جج، جیب……“ ہاتھ کے اشارے سے میں نے اسے بتایا اور اس سے آگے میں کچھ نہ کہہ سکا، میری آنکھیں دھندلا چکی تھیں۔ ایک لمحے کے لیے وہ حیرت کا بت بنا مجھے تکتا رہا، پھر تاسف کے ساتھ گردن ہلا کر تیزی سے پلٹ گیا۔ میں بڑی حسرت سے اسے کاؤنٹر کی جانب واپس جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے چھوٹے کی کھنکتی ہوئی آواز میزے کانوں سے ٹکرائی:
”استاد جی! ایک ٹکی، دو نان، تیس روپے…… یہ رہا اُن صاحب کابل۔“ اس نے میری جانب اشارہ کرکے جیب سے تیس روپے نکالے اور ہوٹل مالک کے سامنے رکھ دیے۔ پھر وہ اللہ حافظ کہہ کر تیزی سے گھر کی جانب چل پڑا۔
میں حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ پھر بجلی کی سی تیزی سے بھاگ کر میں اس کے تعاقب میں نکلا:
”چھ…… چھوٹے……“ غیر ارادی طور پر میرے حلق سے ایک زور دار آواز نکلی، مگر وہ میری آواز سے بہت دور کہیں اندھیرے میں گم ہوچکا تھا، جب کہ میں ندامت کے آنسو لیے ہوٹل کے باہر کھڑا خود کو کوس رہا تھا۔
یہ چھوٹا تو بس نام کا ہی چھوٹا نکلا تھا، دل کا کتنا بڑا تھا! وہ واقعی مجھے ندامت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا کر چلتا بنا تھا۔ ایک معصوم نے اپنی دیہاڑی کی کمائی سے مجھ پردیسی اور مجبور پر جو احسان کیا یہ تو اہل ظرف کی فطرت رہا ہے۔
٭……٭……٭

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو براۓ مہربانی اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔۔۔ جزاک اللہ خیراً

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں