57

گناہ گار ___علی اکمل تصور

بہت سے’انسانوں‘ نے مل کر گول دائرہ بنا رکھا تھا اور دائرے کے بیچ و بیچ ایک ’آدمی‘ سر جھکائے بیٹھا تھا۔دائرے میں شامل ہر’انسان‘ کے ہاتھ میں ایک پتھر تھااور چہرے پر نفرت….’انسان‘ ہوتے ہوئے بھی وہ’انسان‘ لگ نہیں رہے تھے۔’انسانیت‘ تو جیسے اپنے ضمیر کے ساتھ ہی انھوں نے کہیں دفن کر دی تھی…. پھر ہاتھ سے پہلے ان سب کی زبان حرکت میں آئی،

”بد کردار ہے یہ….!“
”موقع پرست ہے یہ….!“
”منافق ہے یہ….!“
”شریعت کا منکر ہے یہ…!“
”گستاخ ہے یہ….!“
”موت ہے اس کی سزا….!“
”دوزخی ہے یہ….!“
”مارو….!“
اس سے پہلے کہ پتھر اٹھائے ان کے ہاتھ فضا میں بلند ہوتے…ایک آواز آئی،
”ہاں…ہاں…گناہ گار ہے یہ…! مگر پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی کوئی گناہ نا کیا ہو…!“
اک پل میں ’انسانوں‘ کا دائرہ غائب ہوگیا مگر ہاں… وہ’آدمی‘ سر اٹھائے کھڑا تھا….!
نہ جانے کیوں… مجھے’جنید جمشید‘یاد آ گیا…!

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو براۓ مہربانی اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔۔۔ جزاک اللہ خیراً

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں